ابنا: تحریک حماس نے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مسجد الاقصی کی تقسیم کی ایک بار پھر شدید مخالفت کی ہے۔ تحریک حماس نے موقف اختیار کیا ہے کہ مسجد الاقصی کی تقسیم کا اقدام بہت بڑا جرم اور اس مقدس مقام کی بے حرمتی ہے۔ تحریک حماس نے اپنے بیانئے میں ذکر کیا ہے کہ اس اقدام سے دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ تحریک حماس نے اپنے بیانئے میں مزید تحریر کیا ہے کہ دشمن مسجد الاقصی کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں ہر گز کامیاب نہیں ہوگا۔ کیونکہ مسجد الاقصی مسلمانوں کی ملکیت ہے اور اس پر غاصبوں کا کوئی حق نہیں ہے۔
.......
/169